ہبلی:24/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)’’ٹیپو سلطان جینتی کو نجی طورپر کوئی مناتاہے تو ہم مخالفت نہیں کریں گے اور احتجاج بھی نہیں کریں گے لیکن سرکاری سطح پر ٹیپو جینتی منایاجانا صحیح نہیں ہے‘‘ودھان سبھا حزبِ مخالف لیڈر جگدیش شٹر نے ان خیالات کااظہار کرتےہوئے رائے بدلنے کی کوشش کی ہے۔
شہر میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ شٹر نےسابق میں ٹیپو جینتی میں شریک ہوئے وڈیو اور تصاویر کو لے کر سوشیل میڈیا پر وائر ل ہونے کے متعلق پوچھے سوال پر کہاکہ بی جےپی اقلیتی مورچہ کی طرف سے ٹیپو جینتی منائی گئی تھی اس پروگرام میں مجھے ٹوپی پہنا کر ہاتھ میں تلوار دی گئی تھی اس بھیس میں میری تصور بھی لی گئی تھی ، راست جواب دینے کے بجائے انہوں نے کہاکہ ہم لوگ کئی ایک پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں، لوگ ہماری تہنیت کرتے ہوئے شال پہناتے ہیں ، وہ کونسی ٹوپی ہے، کونسی شال ہے دیکھا نہیں جاسکتا۔ کہتے ہوئے سوال سے مکر گئے۔
اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ٹیپو سلطان نے ہندوؤں کا قتل کیا تھا ، ونکے وبوا نامی مجاہدہ کا قتل بھی اسی حیدر علی اور ٹیپو نے کیا تھا، ایسے ظالم شخص کی سرکاری سطح پر جینتی منانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف ٹیپو کے واثین کی طرف سے قانونی کارروائی کئے جانےکے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاہ قانونی جدوجہد ہرایک کا حق ہے ، صحیح کیا ہے غلط کیا ہے عدالت فیصلہ کرے گی۔
دھارواڑ میں منعقد ہوئے سادھناسماویش کے متعلق انہوںنے کہاکہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے میرے خلاف بہت زور سے بات کئے ہیں۔ وہ جتنی اونچی آواز میں بات کئے ہیں اتنی ہی طاقت سے کام کئے ہوتے تو ریاست کی ترقی ہونے کی بات کہی۔ اجلاس کے لئے لوگوں کو لالچ دے کر جمع کرنے کا الزام لگایا۔ ویسے یہ کوئی سادھنا سماویش نہیں ، بلکہ کانگریس پارٹی کا سماویش ہونےکی با ت کہی۔ اس موقع پر انہوں نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کی طرح یہاں بھی کسانوں کے نیشنلائز بینک میں 1لاکھ روپئے تک کے قرضے معاف کرنے کی مانگ کی ۔